Physics with Sir Hafiz

Article

CHAPTER 1 – MUHAMMAD PBUH

Journey to Taif

Sayyid Abul Hasan Ali Hasani Nadwi

This Journey has a unique place not only in Islamic history but in the history of mankind as a whole. Not before had mankind observed such of character on the one hand and and of a society on the other. It highlights the spiritual strength and power of of Hazrat Muhammad ﷺ in the face of extreme suffering.
اس سفر کو نہ صرف اسلامی تاریخ بلکہ پوری انسانی تاریخ میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ انسانیت نے اس سے پہلے ایک طرف کردار کی ایسی عظمت و فیاضی اور دوسری طرف کسی معاشرے کی ایسی اخلاقی پستی اور زوال کا مشاہدہ نہیں کیا تھا۔ یہ واقعہ حضرت محمد ﷺ کی روحانی قوت اور انتہائی مصائب کے مقابلے میں صبر و استقامت کی غیر معمولی طاقت کو نمایاں کرتا ہے۔
Hazrat Muhammad ﷺ this journey in the year 619–620 CE, during the 10th year of his nabuwat (prophethood), i.e. about three years before his great Migration. Those were the most and critical years of his life because both of his well-wishers, Hazrat Abu Talib and Hazrat Khadija-tul-Kubra (رضی اللہ عنہا), had left for their heavenly homes. There was no brutality which the Quraysh of Makkah had not on him and his suhaba (رضی اللہ عنہم). They had to face severe boycott, blockade and economic imposed by the Quraysh. Life in Makkah became almost impossible. He was highly in need of spiritual peace, consolation and moral support to deliver his message of Tawheed [Oneness of Allah (سبحانہ وتعالیٰ)].
حضرت محمد ﷺ نے یہ سفر 619–620 عیسوی میں اپنی نبوت کے دسویں سال، یعنی اپنی ہجرتِ عظمیٰ سے تقریباً تین سال پہلے اختیار فرمایا۔ یہ آپ ﷺ کی زندگی کے نہایت اہم اور نازک سال تھے، کیونکہ آپ ﷺ کے دونوں خیر خواہ، حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا، اس دنیا سے رخصت ہو کر اپنے رب کے حضور جا چکے تھے۔ مکہ کے قریش نے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم پر ظلم و ستم کی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ انہیں قریش کی طرف سے شدید بائیکاٹ، ناکہ بندی اور معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مکہ میں زندگی تقریباً ناممکن ہو چکی تھی۔ اللہ کی وحدانیت یعنی توحید کا پیغام پہنچانے کے لیے آپ ﷺ کو روحانی سکون، تسلی اور اخلاقی حوصلہ افزائی کی شدید ضرورت تھی۔
These were the conditions in which Hazrat Muhammad ﷺ along with his adopted son, Hazrat Zayd bin Haritha (رضی اللہ عنہ), set out on foot, towards Taif in the of the sun.
انہی حالات میں حضرت محمد ﷺ اپنے منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تپتی ہوئی دھوپ میں پیدل طائف کی طرف روانہ ہوئے۔
He reached Taif after visiting and preaching Tawheed to different tribes residing between Makkah and Taif. He walked on foot all the way. The tribe of Banu Thaqeef resided in Taif. The greenery and the cold climate of Taif, which were rare in Arabia, had made them very proud. ‘Abd Yalayl, Mas‘ud, and Habeeb, the chiefs of the city, were brothers. Hazrat Muhammad ﷺ met them first and delivered them the message of Islam. One of them said , “I will shave my beard in front of Ka‘ba if you were appointed a messenger by Allah!” The other , “Didn’t God find anyone better than you, who do not have even a humble animal to ride, to take as His messenger? If He had to appoint a messenger, He should have selected a ruler or a chief.” The third one added, “I don’t want to talk to you, because if you are a messenger of God, as you claim, it is dangerous to reject your message. But in case you are telling a lie, it doesn’t me to talk to a liar.” Hazrat Muhammad ﷺ told them at the end, “Now I only want you to keep your views to yourselves so that others are not .”
آپ ﷺ مکہ اور طائف کے درمیان آباد مختلف قبائل کو توحید کی دعوت دینے اور تبلیغ کرنے کے بعد طائف پہنچے۔ آپ ﷺ نے پورا راستہ پیدل طے کیا۔ بنو ثقیف کا قبیلہ طائف میں آباد تھا۔ طائف کی سرسبزی اور سرد آب و ہوا، جو عرب میں نایاب تھیں، نے انہیں بہت مغرور بنا دیا تھا۔ عبد یالیل، مسعود اور حبیب شہر کے سردار اور آپس میں بھائی تھے۔ حضرت محمد ﷺ نے سب سے پہلے ان سے ملاقات کی اور انہیں اسلام کا پیغام پہنچایا۔ ان میں سے ایک نے سخت لہجے میں کہا: اگر آپ کو اللہ نے رسول مقرر کیا ہے تو میں کعبہ کے سامنے اپنی داڑھی منڈوا لوں گا! دوسرے نے جھٹ سے کہا: کیا اللہ کو آپ کے علاوہ کوئی بہتر شخص نہیں ملا جسے اپنا رسول بناتا، حالانکہ آپ کے پاس سواری کے لیے ایک معمولی جانور بھی نہیں؟ اگر اسے کوئی رسول مقرر کرنا ہی تھا تو کسی بادشاہ یا سردار کو منتخب کرتا۔ تیسرے نے کہا: میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ اگر آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں جیسا کہ آپ دعویٰ کرتے ہیں تو آپ کے پیغام کو رد کرنا خطرناک ہے، اور اگر آپ جھوٹ بول رہے ہیں تو میرے لیے کسی جھوٹے سے بات کرنا مناسب نہیں۔ آخر میں حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: اب میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ آپ اپنی رائے اپنے تک رکھیں تاکہ دوسرے لوگ گمراہ نہ ہوں۔
Hazrat Muhammad ﷺ then started preaching his faith to the people. These three chiefs, then, their slaves and street children to chase him. When he started delivering a sermon, they him with stones, causing him severe injuries; blood down to his shoes and clotted there, making it difficult for him to take out his shoes for ablution (Wudu).
اس کے بعد حضرت محمد ﷺ نے لوگوں کو اپنے دین کی دعوت دینا شروع کی۔ ان تینوں سرداروں نے اپنے غلاموں اور گلی کے بچوں کو آپ ﷺ کے پیچھے لگایا تاکہ وہ آپ ﷺ کو ستائیں اور بھگائیں۔ جب آپ ﷺ نے وعظ شروع کیا تو انہوں نے آپ ﷺ پر پتھر برسائے، جس سے آپ ﷺ کو شدید چوٹیں آئیں۔ خون آپ ﷺ کے جوتوں تک بہہ کر وہاں جم گیا، جس کی وجہ سے وضو کے لیے جوتے اتارنا بھی مشکل ہو گیا۔
During that journey once the called him names, clapped, and shouted at him so much that he was forced to take refuge inside the boundary of an orchard. That place belonged to ‘Utba and Shayba, sons of Rabi‘a. Seeing his condition, they took pity on him and sent some grapes on a plate through their slave, Addaas. Addaas put the plate in front of Hazrat Muhammad ﷺ. He said Bismillah [In the name of Allah] and began to eat. Addaas was surprised at the words he heard and commented: “People here do not use these words,” whereupon Hazrat Muhammad ﷺ inquired him about his native country and religion. Addaas replied that he was a Christian and was originally from Naynawa. Hearing the name of the city, our beloved Rasool eagerly asked, “Are you from the city of the pious person Hazrat Yunus bin Matta?” Addaas asked in surprise, “How do you know about Hazrat Yunus bin Matta?” Hazrat Muhammad ﷺ replied, “He is my brother. He was a Rasool and I am a Rasool, too.” Hearing it, Addaas leaned toward him in and kissed his head, hands, and feet. ‘Utba and Shayba, who were watching them from a distance, commented: “See, it seems that we have lost this slave.” When Addaas returned to them, they him, “Stupid! What happened to you that you started kissing that person’s hands, feet, and head?” Addaas told them, “Masters! Today nobody is better than him on the face of the earth. He told me something that only a Rasool could know.” They Addaas and warned him not to forsake his religion which was, as they told him, better than the new religion.
اس سفر کے دوران ایک مرتبہ شرپسند لوگوں نے آپ ﷺ کو برا بھلا کہا، تالیاں بجائیں اور اس قدر شور مچایا کہ آپ ﷺ ایک باغ کی حدود میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ یہ باغ عتبہ اور شیبہ، ربیعہ کے بیٹوں، کی ملکیت تھا۔ آپ ﷺ کی انتہائی افسوس ناک حالت دیکھ کر انہیں آپ ﷺ پر ترس آیا اور انہوں نے اپنے غلام عداس کے ذریعے ایک پلیٹ میں کچھ انگور بھجوائے۔ عداس نے پلیٹ حضرت محمد ﷺ کے سامنے رکھی۔ آپ ﷺ نے بسم اللہ کہا اور کھانے لگے۔ عداس آپ ﷺ کے منہ سے یہ الفاظ سن کر حیران ہوا اور بولا کہ یہاں کے لوگ یہ الفاظ استعمال نہیں کرتے۔ اس پر حضرت محمد ﷺ نے اس سے اس کے آبائی وطن اور مذہب کے بارے میں پوچھا۔ عداس نے جواب دیا کہ وہ عیسائی ہے اور اصل میں نینویٰ کا رہنے والا ہے۔ شہر کا نام سن کر ہمارے محبوب رسول ﷺ نے بے تابی سے پوچھا: کیا تم اس نیک شخص حضرت یونس بن متیٰ کے شہر سے ہو؟ عداس نے حیرت سے پوچھا: آپ کو حضرت یونس بن متیٰ کے بارے میں کیسے معلوم ہے؟ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: وہ میرے بھائی ہیں۔ وہ بھی رسول تھے اور میں بھی رسول ہوں۔ یہ سن کر عداس عقیدت و شوق سے آپ ﷺ کی طرف جھکا اور آپ ﷺ کے سر، ہاتھوں اور قدموں کو بوسہ دیا۔ عتبہ اور شیبہ جو دور سے یہ منظر دیکھ رہے تھے، کہنے لگے: دیکھو، لگتا ہے ہم نے اس غلام کو کھو دیا ہے۔ جب عداس ان کے پاس واپس آیا تو انہوں نے اسے ڈانٹا اور کہا: بے وقوف! تمہیں کیا ہوا کہ تم اس شخص کے ہاتھ، پاؤں اور سر چومنے لگے؟ عداس نے کہا: میرے آقاؤ! آج روئے زمین پر کوئی شخص اس سے بہتر نہیں۔ اس نے مجھے ایسی بات بتائی جو صرف ایک رسول ہی جان سکتا تھا۔ انہوں نے عداس کو سختی سے ملامت کی اور اسے اپنا مذہب چھوڑنے سے خبردار کیا، جسے وہ نئے مذہب سے بہتر سمجھتے تھے۔
Once when Hazrat Muhammad ﷺ was preaching in Taif, he received such serious injuries that he fell unconscious. Hazrat Zayd bin Haritha, his adopted son, carried him on his back out of the city where he sprinkled water on his face till he regained his consciousness. Although not a single person accepted Islam in Taif in spite of so much suffering, his heart remained faith in Allah’s grandeur and His love. He to his Lord in the following words:
ایک مرتبہ جب حضرت محمد ﷺ طائف میں تبلیغ فرما رہے تھے تو آپ ﷺ کو اتنی شدید چوٹیں آئیں کہ آپ ﷺ بے ہوش ہو گئے۔ آپ ﷺ کے منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کو اپنی پشت پر اٹھا کر شہر سے باہر لے گئے اور آپ ﷺ کے چہرے پر پانی چھڑکتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو ہوش آ گیا۔ اگرچہ اتنی تکلیف اور مصیبت کے باوجود طائف میں ایک شخص نے بھی اسلام قبول نہیں کیا، لیکن آپ ﷺ کا دل اللہ کی عظمت اور اس کی محبت کے ایمان سے بھرا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے اپنے رب سے درج ذیل الفاظ میں دعا کی:

اے اللہ! میں تجھ سے اپنی قوت کی کمزوری، اپنے وسائل کی کمی اور اپنی بے بسی کی شکایت کرتا ہوں۔ تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ تو مظلوموں اور بے بسوں کا محافظ ہے اور بے شک میرا محافظ بھی تو ہی ہے۔ تو مجھے کس کے حوالے کرتا ہے؟ کسی سخت دل اجنبی کے یا ایسے دشمن کے جسے تو نے میرے معاملات کا اختیار دے دیا ہے؟ اگر مجھ پر تیرا غضب نہ ہو تو مجھے کسی بات کی پروا نہیں کہ میرے ساتھ کیا کیا جاتا ہے، البتہ تیری طرف سے عافیت میرے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ میں تیرے نورِ ذات کی پناہ چاہتا ہوں جو تمام تاریکیوں کو دور کرتا ہے اور دنیا و آخرت کے تمام معاملات کو درست کرتا ہے، تاکہ میں کبھی تیرے غضب کا مستحق نہ بنوں اور نہ تیری ناراضی مول لوں۔ میں اس وقت تک تجھ سے فریاد کرتا رہوں گا جب تک تو راضی نہ ہو جائے۔ نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی طاقت صرف تیری ہی طرف سے ہے۔
His miserable and pathetic condition shook both heaven and earth, Immortal and the mortals. Archangel Hazrat Jibreel (Gabriel), along with the Angel of the Mountains (Malakal-Jibal), appeared and sought his permission to allow them to crush the town by overturning the mountains on it. But Hazrat Muhammad ﷺ, an of mercy and pity and a symbol of compassion and , preferred forgiveness to vengeance and assertively declared, , “No, rather I hope that Allah will bring forth from their descendants people who will worship Allah alone without associating any partners.”
آپ ﷺ کی دردناک اور قابلِ رحم حالت نے آسمان و زمین اور ملائکہ و انسان سب کو متاثر کر دیا۔ فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیل علیہ السلام، فرشتۂ کوہستان یعنی ملک الجبال کے ساتھ حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے اجازت طلب کی کہ انہیں پہاڑوں کو الٹ کر اس بستی کو کچل دینے کی اجازت دی جائے۔ لیکن حضرت محمد ﷺ، جو رحمت و شفقت کا پیکر اور ہمدردی و بردباری کی علامت تھے، نے انتقام کے مقابلے میں معافی کو ترجیح دی اور پُرعزم انداز میں فرمایا: نہیں، بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا کرے گا جو اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت کریں گے۔
The people of Taif, blinded by ignorance and arrogance, failed to realize that by rejecting the message of Tawheed and persecuting him, they were turning away from heavenly blessing and bliss; whereas, only a few years later, the people of Madinah embraced the same opportunity and attained success in both this world and the Hereafter by giving shelter to Hazrat Muhammad ﷺ and his suhaba (رضی اللہ عنہم). They were by ignorance and arrogance. They failed to that they were turning away from heavenly blessing and bliss. The people of Madinah the same opportunity and success in both this world and the Hereafter by giving shelter to Hazrat Muhammad ﷺ and his suhaba (رضی اللہ عنہم).
طائف کے لوگ جہالت اور تکبر کے باعث اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہے کہ توحید کے پیغام کو مسترد کرکے اور حضرت محمد ﷺ کو ستا کر وہ آسمانی برکت اور خوش حالی سے منہ موڑ رہے تھے۔ اس کے برعکس، صرف چند سال بعد مدینہ کے لوگوں نے اسی موقع کو قبول کیا اور حضرت محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو پناہ دے کر دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کی۔
Theme

The theme of this unit is the unwavering faith, patience, and compassion of Hazrat Muhammad ﷺ in the face of extreme hardship and rejection. It highlights his dedication to spread the message of Tawheed despite ridicule, insult, and physical harm. The journey to Taif reflects the struggles that often accompany truth and reform. Even when rejected by the chiefs and mistreated by the people, he remained steadfast and hopeful. The incident with Addaas shows how sincerity and truth can touch hearts even in difficult circumstances. His prayer demonstrates humility, deep reliance on Allah, and spiritual strength. Another important aspect is his forgiveness, as he chose not to curse the people of Taif despite their cruelty.
اس یونٹ کا موضوع حضرت محمد ﷺ کا انتہائی مشکلات اور مخالفت کے باوجود غیر متزلزل ایمان، صبر اور شفقت ہے۔ یہ توحید کے پیغام کو مذاق، توہین اور جسمانی اذیت کے باوجود پھیلانے کے لیے آپ ﷺ کی غیر معمولی وابستگی کو اجاگر کرتا ہے۔ طائف کا سفر ان مشکلات کی عکاسی کرتا ہے جو اکثر حق اور اصلاح کی راہ میں پیش آتی ہیں۔ سرداروں کی مخالفت اور لوگوں کے ناروا سلوک کے باوجود آپ ﷺ ثابت قدم اور پُرامید رہے۔ عداس کا واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مشکل حالات میں بھی اخلاص اور سچائی دلوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ آپ ﷺ کی دعا عاجزی، اللہ پر گہرے بھروسے اور روحانی قوت کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک اور اہم پہلو آپ ﷺ کی معافی ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے طائف کے لوگوں کی سختیوں کے باوجود ان کے لیے بددعا کرنے کے بجائے انہیں معاف کرنے کو ترجیح دی۔